ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رافیل معاملہ: جھوٹی رپورٹ کی بنیاد پرسپریم کورٹ کا آیا فیصلہ، مرکز پرتوہین عدالت کا معاملہ درج ہو: کانگریس

رافیل معاملہ: جھوٹی رپورٹ کی بنیاد پرسپریم کورٹ کا آیا فیصلہ، مرکز پرتوہین عدالت کا معاملہ درج ہو: کانگریس

Mon, 17 Dec 2018 12:18:27    S.O. News Service

نئی دہلی، 17؍دسمبر (ایس او نیوز ؍ایجنسی) فرانس کے ساتھ ہوئے رافیل لڑاکو جہاز سودے کو لے کرسیاسی رسہ کشی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کانگریس نے مرکزی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے میں حقائق میں سدھارکرنے والی عرضی کو لے کرایک بارپھرسے تنقید کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے رافیل ڈیل پرپہلے توعوام کو گمراہ کیا، پھرعدالت عظمیٰ میں بھی غلط اطلاعات دیں۔ لہٰذا سپریم کورٹ کو فیصلہ واپس لینا چاہئے۔

کانگریس نے ساتھ ہی جھوٹے ثبوت پیش کرنے کے لئے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا چاہئے۔ راجیہ سبھیا میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈرآنند شرما نے پریس کانفرنس میں یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا رافیل پرجو فیصلہ آیا ہے، وہ بحث کا موضوع ہے۔ ہم نے پہلے بھی یہ کہا تھا کہ اس معاملے میں جانچ صرف مشترکہ پارلیمانی کمیٹی )جے پی سی) ہی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کو گمراہ کیا، جس کی بنیاد پریہ فیصلہ آیا ہے۔

کانگریس ہیڈ کوارٹرمیں منعقدہ پریس کانفرنس میں آنند شرما نے یہ الزام بھی لگایا کہ حکومت نے یہ دعویٰ کرکے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے خصوصی اختیارکی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ رافیل جہاز کی قیمتوں کولے کرسی اے جی رپورٹ پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹ کمیٹی (پی اے سی) میں پیش کی گئی، جو سراسرجھوٹ ہے۔

آنند شرما نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پرکیوریٹیوپٹیشن داخل کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں الفاظ کو سمجھا نہیں اور(از) کی جگہ (ہیزبین) ہوگیا۔ شرما نے کہا کہ حکومت نے سپریم کوٹ سے معافی مانگنے کے بجائے ججوں کی انگریزی اورگرامرسے متعلق جانکاری پرسوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہندوستان کا پارلیمنٹ ہے۔ حکومت نے سی اے جی اورپارلیمنٹ کی پی اے سی کا ذکر کرکے پارلیمنٹ کی بھی توہین کی ہے، جس کی کارروائی پارلیمنٹ میں ہوگی۔


Share: